اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ واشنگٹن نے مذاکرات کے مفہوم کو غلط سمجھ لیا ہے اور اسے اپنی شرائط دوسروں پر مسلط کرنے کے مترادف بنا دیا ہے، جو قابلِ قبول نہیں۔
ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی اور مذاکرات سے متعلق فیصلے قومی مفادات اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا۔ ان کے مطابق امریکہ کے متضاد بیانات اور پالیسیوں کے باوجود ایران سفارت کاری کی صلاحیتوں سے دستبردار نہیں ہوگا اور جہاں ضروری ہوا، اپنے مؤقف اور حقوق کے دفاع کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرے گا۔
بقائی نے حالیہ علاقائی صورتحال اور اسلام آباد مفاہمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی جس پر خود امریکی صدر نے دستخط کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر بھرپور توجہ دینا ہوگی اور کسی بھی جارحیت کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
ایرانی ترجمان نے عمان، قطر اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کے دورۂ تہران کے بارے میں کہا کہ یہ دورے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں ہوئے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کے دورۂ ایران کو بھی دوستانہ ملک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
بقائی نے ایرانی شہریوں کے لیے ٹوفل امتحان پر عائد پابندی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی ایران مخالف پالیسی میں عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تعلیمی اور سائنسی سرگرمیوں کا ایران کے جوہری معاملے سے کیا تعلق ہے؟
جوہری پروگرام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ معمول کے مطابق رابطے میں ہے اور کوہِ کلنگ میں جوہری سرگرمیوں سے متعلق دعووں کو مسترد کیا۔
بقائی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی، طبی اور شہری مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے یورپی ممالک کی جانب سے امریکی پابندیوں کی حمایت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یورپ کو واشنگٹن کی پالیسیوں کی اندھی تقلید کے بجائے اپنے مفادات اور بین الاقوامی قانون کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
آخر میں بقائی نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے، تاہم ملک کے دفاع کے لیے تیار رہنا کسی دوسرے ملک کا معاملہ نہیں اور ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ